کیا ہماری زندگی ہماری اپنی ہی ہے؟

کیا ہماری زندگی ہماری اپنی ہی ہے؟

Aamer Habib News Caster

Aamer Habib News Caster

کیا ہماری زندگی ہماری اپنی ہی ہے؟

دوسروں کی سوچ پر زندگی گزارنے کی کیا ضرورت ہے؟

کیوں ہم اس زندگی کی قدر نہیں کرتے ؟ ہم اسے اس قدر معمولی کیوں تصور کرتے ہیں؟ہم اس نایاب تحفے پر خدا کا شکر کیوں بجا نہیں لاتے؟ ہماری زندگی وہ انمول تحفہ ہے جو بنا طلب کیے ہمیں عطا کیا گیا۔ہمارے لیے اس زندگی کے حصول کے بہت کم امکانات تھے۔جس لمحے ہم نے جنم لیا اس لمحے کو معجزہ جانا گیا۔پھر بھی ہم ایسے زندگی گزارتے ہیں جیسے اس میں کوئی بڑی بات نہیں۔صبح جاگتے ہی سب سے پہلے ہم سماجی روابط کے ذرائع پر اپنی تصاویر کے لیئے اظہارکردہ پسندیدگیاں اورخیالات چیک کرنے لگتے ہیں۔ہم بجائے اسکے،کیوں کھڑکی سے جھانک کر عطا کیے جانے والے مزید ایک خوبصورت دن کیلئے شکر ادا نہیں کرتے۔فیس بک اور اس جیسے دوسرے سماجی روابط کے ذرائع سے ہم جاننا چاہتے ہیں کہ کیا پہننا ہے،کیا کرنا ہے اور کیا بننا ہے۔ہم خود کو فراموش کر دیتے ہیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں اور دوسروں کی رائے اور اظہار کردہ خیالات کے مطابق چلنے لگتے ہیں اور دن گزاردیتے ہیں۔اگر آپ دوسروں کی نظر میں اچھے بن کر یہ سوچنا چاہ رہے کہ آپ خوش ہیں، تو جان لیں کہ خود کو مسلسل دھوکا دینے میں مصروف ہیں ! در حقیقت ایسا نہیں ہے ۔ ہم ان جھوٹے دوستوں میں اس قدر مگن ہو جاتے ہیں کہ اپنے حقیقی دوستوں کو بھول ہی جاتے ہیں، جبکہ یہ دوست ہم سے محض اپنے دماغی خیالات کا اظہارتو کر سکتے ہیں مگر سچے دوستوں کی طرح ہماری آنکھیں نہیں پڑھ سکتے کہ ان کے خیالات سے ہٹ کر ہم کیا چاہتے ہیں۔فون اور لیپ ٹاپ جیسے آلات کو ہم اپنا حفاظتی حصار تصور کرتے ہیں۔ہم فیس بک پر فالو(پیروی) کیے جانے والوں کے بارے میں یہ سوچ سوچ کر خود کو ہلکان کرتے رہتے ہیں کہ وہ تو بہت اچھے ہیں اور ہم نہیں، اور انہی جیسی شہرت پانے کی چاہ میں ہم بھی وہی کرنے لگتے ہیں جو لوگوں کوپسند ہو تاکہ ہماری بھی پیروی کی جائے۔اس طرح ہم دوسروں کے اشاروں پر چلکر”آن لائن سوشلائزنگ” کے نام پرخود کو تنگ حال بنا لیتے ہیں اوراپنے لئے بلا وجہ کی پریشانی پال لیتے ہیں۔اس معاشرے میں ہر وقت موبائل یا ٹیبلیٹ کی اسکرین کو دیکھتے ہوئے پروان چڑھنے والے بچے یہ نظریہ لے کر بڑے ہو رہے ہیں کہ انہیں پرکھا جانا ہے۔

آخر کیوں ہم اپنی زندگی کا چھوٹے سے چھوٹا فیصلہ بھی دوسروں کی رائے کے مطابق کرتے ہیں، اوربنا اپنی خوشی اور مرضی کی پرواہ کیے اسی پر عمل کرتے ہیں؟کبھی سوچا کہ ہماری اپنی خوشی اور مرضی کا کیا؟ ہم اس سے مطمئن کیوں نہیں ہوتے جو ہمیں عطا کیا گیا؟ ہم ہمیشہ بہترین ہی کی تلاش میں کیوں رہتے ہیں؟ کیا یہ معصوم بچوں کے ساتھ ظلم نہیں کہ انکی سوچ اسی سانچے میں ڈھل جائے گی جب آپ ہی توجہ نہ دیںگے؟ کیوںآپ انہیںان رواج و اقدار کے حوالے کر رہے ہیں جوانسان کی اپنی کوئی سوچ ہی نہیں رہنے دیتے؟ یہ زندگی آپکی ہے یا کسی اور کی، ذرا سوچئے!