کامیابی کے لئے ۔  ایک ا لگ راستہ

کامیابی کے لئے ۔ ایک ا لگ راستہ

Aamer Habib Crime Reporter

Aamer Habib Crime Reporter

کامیابی کے لئے ۔ ایک ا لگ راستہ
کیا آپ بھی اسی راستے پر چل رہے ہیں؟

کیا آپ بھی اسی راستے پر چل رہے ہیں جس پر باقی سب؟ کیا آپ پوری زندگی ایک معمولی انسان کے طور پر گزار دینا چاہتے ہیں؟ کیا آپ نہیں چاہتے کہ آپ کی ایک الگ پہچان ہو؟ ہم کیوں دوسروں کے راستے پر چلنے اور انکے اُٹھائے ہوئے قدموں کے نشان پر اپنے قدم رکھنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں؟ دنیا میں جتنے بھی لوگ عظیم کہلائے، انہوں نے یہ عظمت اس لیے پائی کہ انہوں نے ایک الگ راستہ چُنا۔ اپنی مرضی کا راستہ! انہوں نے اپنی مرضی سے اپنی سمت کا تعین کیا اور اپنی مرضی سے قدم جمائے بِنا لوگوں کی مرضی کی پرواہ کیے۔ یاد رکھیئے ، انسان منفرد تب ہی کہلاتا ہے جب وہ دوسروں سے مختلف ہو اور زمانے کے لگے بندھے اصولوں کا پابند نہ ہو۔ اپنی پہچان تب ہی ملتی ہی جب کچھ مختلف کیا جائے۔کسی کی بھی راہ اپنانے اور اسکے پیچھے چلنے سے ہم اس جیسے تو بن سکتے ہیں مگر کبھی خاص نہیں۔ایسے میں مشکلات کا ایک لمبا سفر طے کر کے جب ہم منزل پر پہنچتے ہیں تو پہنچنا نہ پہنچنا برابر ہوتا ہے کیوں کہ ہم اپنے نہیں بلکہ اسکے نام سے جانے جاتے ہیں جسکا راستہ چنا تھا۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ تبدیلی یا منفرد پن ہمیشہ اپنی طرف کھینچتا ہے۔اگر آپ اپنی پہچان خود بنانا چاہتے ہیں تو وہ راستہ چھوڑ دیں جس پر باقی سب ہی چل رہے ہیں اور اپنے لیے اپنی مر ضی کا راستہ منتخب کریں، وہ جس میں آپکی خوشی ہو۔ اپنی سمت کا تعین خود کریں اور اسکی اجازت لوگوں کو مت دیں۔

جو لوگ آج آپ سے اختلاف رکھتے ہیں، کل جب آپ ایک مقام پر پہنچ جائیں گے تو یہی لوگ آپکو منفرد تسلیم کریں گے۔ اس طور جب آپ اپنی منزل پائیں گے تو اس میں ایک الگ ہی سکون و طمانیت اور سرور کا احساس ہوگا۔کیا کبھی دوسروں کی پیروی کرنے سے انسان اپنی پہچان بنا سکتا ہے؟ اگر کامیابی پا بھی لے تو وہ اسکی پسند شدہ ہوتی ہے یا دنیا کی؟ کیا یہ زندگی صرف ایک بار نہیں ملتی؟اس چھوٹی سی زندگی میں کیا آپ اپنی پہچان خود نہیں بنانا چاہیں گے؟ ایک الگ راستہ ہی بناتا ہے منفرد!

Aamer Habib Crime Reporter