سوچ بدلے گی تو سب کچھ بدلے گا۔

سوچ بدلے گی تو سب کچھ بدلے گا۔

Aamer Habib Crime story Writer

Aamer Habib Crime story Writer

سوچ بدلے گی تو سب کچھ بدلے گا۔
آپ ہر ناکامی اور ڈر کو ڈرا سکتے ہیں۔
کبھی سوچا ڈر کیا ہے؟ اسکی حقیقت کیا ہے؟ یہ کیسے ہمارے اندر پیدا ہوتا ہے؟جاننا چاہیں گے تو سنیں، یہ صرف اور صرف آپکی سوچ اورتصورکی ایک پیداوارہے!یہ ہمیں ان باتوں سے ڈرانے کا موجب بنتا ہے جنکا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں ہوتا اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کبھی وجود میں آئیں بھی نہ۔ڈر ایک انتخاب ہے جسے آپ خود چنتے ہیں۔اگر آپ اسکے برعکس یقین کو منتخب کریں تو پھر کونسی ایسی چیز ہے جو آپ پا نہیں سکتے؟اگر آپ یہ فیصلہ کر لیں کہ مجھے کرنا ہے اور بس کرنا ہے، بِنا کسی ڈروخوف کے، تو آپکی راہ میں رکاوٹ بننے والی دنیا کی ہر چیز خود بہ خود آپکی راہ سے ہٹنے لگے گی۔یاد رکھیں کہ آپ کے ڈر کی انتہاء کی دوسری جانب ہر وہ بہترین چیز موجود ہے جو اس زندگی میں خدا نے آپ کیلئے رکھی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ ڈر پر کیسے قابو پایہ جائے؟ جب آپ باڈی بلڈنگ کرنا چاہتے ہیں تو جم جاتے ہیں۔مطلب قدم اٹھاتے ہیں اپنے اس شوق کو پورا کرنے کیلئے۔جب آ پ ڈائیٹنگ کرنا چاہتے ہیں تو خوراک پر قابو پاتے ہیں،اسکے لئے قدم اٹھاتے ہیں۔ بالکل اسی طرح ڈر پر قابو پانے کیلئے بھی آپکو قدم اٹھانا پڑے گا۔یہ قدم آپکو کیسے اٹھانا ہے؟اپنی جسمانی محنت کو بروئے کار لا کر اور اپنی سوچ میں یقین کا بیج بو کر! کیونکہ جو آپ بوتے ہیں اور جتنی محنت سے بوتے ہیں، وہی کاٹتے ہیں اور ویسا ہی پھل پاتے ہیں۔ اپنی ذہنی صلاحیت کا استعمال کر کے سوچیں کہ جو آپ پانا چاہتے ہیں کیسے پا سکتے ہیں، جیسا بننا چاہتے ہیں ویسا کیسے بن سکتے ہیں، اور جس مقام تک پہنچنا چاہتے ہیں وہاں کیسے پہنچ سکتے ہیں۔ پھر اپنی سوچ اور تصور کو ہر طرح کے خوف سے پاک کر کے یہ یقین اپنے اندر پیدا کر لیں کہ میں یہ کر سکتا ہوں، اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ جتنی مرضی بار ناکام ہو جاؤں کیونکہ کامیاب وہی ہوتا ہے جو گِر کر پھر سے اُٹھ جائے۔95 فیصد لوگ اپنے اندر یقین کے بیج کو نہ تو بوتے ہیں اور نہ ہی کِھلنے دیتے ہیں جسکا نتیجہ ناکامی کے ڈر کی صورت میں انہیں کوئی بھی قدم اُٹھانے سے روک دیتا ہے اور وہ سب پانے سے بھی جسکے وہ خواہشمند ہوتے ہیں۔ہر ڈر کے پیچھے وہ مقام ہے جہاں آپ پہنچنا چاہتے ہیں۔

یاد رکھیں کہ کامیابی ہماری وضاحت نہیں کرتی، ہم کامیابی کی وضاحت کرتے ہیں۔کوئی قدم نہ اُ ٹھانے کے جواز، بہانے، دلائل، وضاحتیں دراصل ہمارے اندر کا خوف ہے جو اس صورت میں سامنے آتا ہے۔اب آپ خود کو بنانا چاہتے ہیں یاڈر میں رہ کر خود کو تباہ کرنا چاہتے ہیں؟ایک بار گِر کر ہار مان لینا چاہتے ہیں یا ڈر کو ہرا دینا چاہتے ہیں؟کامیابی سوال یہ کرتی ہے کہ گِر کر اُٹھتا کون ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ آپ اپنی سوچ میں یقین کا بیج بونا چاہتے ہیں یا ڈر کا؟ پانا ہے یا کھونا؟

Aamer Habib Crime story Writer