زحمت یا رحمت؟ _ سوچ کا ہے فرق

زحمت یا رحمت؟ _ سوچ کا ہے فرق

Aamer Habib Journalist in Dubai

Aamer Habib Journalist in Dubai

زحمت یا رحمت؟ _ سوچ کا ہے فرق
انسان اتنا نا شکرا کیوں ہے؟
انسان اتنا نا شکرا کیوں ہے؟ بجائے خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر بجا لانے کے، ہم شکوے شکایتیں ہی کیوں کرتے رہتے ہیں؟کیا خدا نے ہمیں اس لئے اشر ف المخلوقا ت کے رتبے پر فائز کیا؟ ہماری سوچ کو میلا کرنے کا باعث ہمارے علاوہ کون ہے؟ کبھی سوچا کہ اگر اﷲ پاک ناراض ہو کر ان نعمتوں اور رحمتوں کا نزول روک دے تو؟ ایک بارش کی ہی مثال لے لیں۔ بارش شروع ہوتے ہی ہم کوئی نہ کوئی شکوہ بھرا تاثردینے اور فکرمندی ظاہر کرنے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ کوئی بارش کے باعث دفتر ،سکول سے لیٹ ہو جانے سے پریشان تو کسی کو ٹریفک جام ہو جانے کی فکر کھائے جا تی ہے۔ کوئی بارش سے گیلے ہو جانے پر چڑ کھاتا ہے اورکسی کو ٹپکتی چھت کا غصہ۔مگر کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو اس نعمت اور رحمت پر خدا کا شکر ادا کرتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ انہیں بارش کے باعث کسی مسئلے سے دو چار نہیں ہونا پڑتا۔ مگر وہ نا شکرے نہیں ہوتے۔ وہ بارش سے پیدا ہونے والے مسئلوں کیساتھ ساتھ بارش کے نزول کے مثبت پہلوؤں کو بھی ذہن میں رکھتے ہیں۔انکی چاہے چھت ٹپکے، چاہے گلی پانی سے بھر جائے، چاہے وہ ٹریفک جام میں پھنس جائیںیا پھر کیچڑ سے انکے کپڑے خراب ہوں، وہ اسے خدا کی رحمت اور رضا تصور کر کے قبول کرتے ہیں۔یہی لوگ عقلمند کہلانے کے مستحق ہوتے ہیں۔ شکوہ کرنے والوں نے کبھی سوچا کہ بارش نہ ہونے کی صورت میں کیا حبس برداشت کر پاتے وہ؟ خشک سالی کی تنگی کا اندازہ کیا کبھی؟

بارش نہ ہو تو فصلیں اُگتیں؟ فصلیں نہ اُگتیں تو اناج مل پاتا انہیں؟ ہم ہر چیز کا منفی پہلو ہی کیوں سوچتے ہیں؟ ہماری سوچ بچوں کیطرح شفاف کیوں نہیں جو چھوٹے سے تحفے یا خوشی کے ملنے پر خوش ہوتا ہے؟ ہم کبھی بھی کسی حال میں خوش کیوں نہیں ہوتے؟ کچھ مانگتے ہیں ، مل جاتا ہے تو اس کا شکر ادا کرنے کی بجائے ہمیشہ اس سے آگے کی فکر میں کیوں لگ جاتے ہیں؟ فرق ہے تو سوچ کا!